مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ

۱۵ جون ۲٠٠۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

سودی نظام کے حوالے سے حکومت کو ایک سال اور مل گیا ہے، آپ نے یہ بات اخبارات میں پڑھ لی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ایک سال کی مہلت دے دی ہے۔ ایک بات میں اپنے فریضے کے طور پر لازماً‌ عرض کرنا چاہوں گا، جہاں ہم نے ترپن سال انتظار کیا ہے، ایک سال اور سہی، لیکن مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے سال بھی یہ نہیں ہوگا۔ جہاں نیت خراب ہو کہ ہم نے یہ کام نہیں کرنا، وہاں سالوں پہ سال گزرتے چلے جاتے ہیں اور وہ کام نہیں ہوتا۔ یہ بات تو نرا بہانہ ہے کہ ہماری تیاری مکمل نہیں ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ ۱۹۸۴ء میں غلام اسحاق خان صاحب وزیر خزانہ تھے، آپ اس سال کی بجٹ تقریر آج بھی نکال کر دیکھ لیں کہ غلام اسحاق خان نے بحیثیت وزیر خزانہ بجٹ تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ: غیر سودی مالیاتی نظام کا ڈھانچہ ہم نے تیار کر لیا ہے اور اس سلسلہ میں تمام رکاوٹوں پر ہم نے قابو پا لیا ہے، تمام مشکلات کا حل تلاش کر لیا ہے، میں قوم کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ کہ سال یعنی ۸۵، ۱۹۸۶ء کا بجٹ غیر سودی ہوگا۔

آج سترہ سال کے بعد وزارت خزانہ یہ کہہ رہی ہے کہ جناب ہماری تیاریاں مکمل نہیں ہیں۔ مجھے تو یہ سب جھوٹ اور فریب لگتا ہے، یہ سب بہانے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کا عمل ہے۔ یہ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ ایک دن پہلے اسی اسلام آباد میں جنرل پرویز مشرف نے قومی سیرت کانفرنس میں تقریر فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و حیات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، ہم حضورؐ سے راہنمائی حاصل کریں گے، اسلام پر جب بھی کوئی بات آئی میں سب سے آگے ہوں گا، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور ہم یہاں اسلام نافذ کریں گے۔ صرف ایک دن پہلے اسی اسلام آباد میں مملکت کا سربراہ نبی کریمؐ کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کر رہا ہے، اور اس سے دوسرے دن حکومت سپریم کورٹ میں جا کر کہتی ہے کہ جناب سودی نظام کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہے۔ اسی کا نام تو منافقت ہے، منافقت اور کس بلا کا نام ہے۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں منافقت اور منافقوں سے نجات دلائیں اور ہمیں صحیح اور با اصول قیادت نصیب فرمائیں۔

Share :

Related Posts

انسدادِ سود کے لیے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ کمیشن کا مسودۂ قانون

مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ ۲۵ مئی ۲٠٠۱ء (جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ) آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ سود کے حوالے سے بات چل رہی ہے جو کہ اب تقریباً‌ آخری مرحلے میں ہے۔ گزشتہ بیس سال سے یہ عدالتی جنگ چل رہی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے فل بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ جناب سود قرآن و سنت کے خلاف ہے، پاکستان کے دستور کے خلاف ہے، اس لیے حکومت یکم جولائی ۲٠٠۱ء سے ملک میں غیر سودی مالیاتی نظام نافذ کرے۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایک کمیشن

Read More »

بخاری شریف کی کتاب العلم: اساتذہ کا تربیتی نصاب

اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے گوجرانوالہ زون کے اساتذہ کی ایک تربیتی نشست سے خطاب کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے پروگراموں میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے بزرگوں بالخصوص حضرت مولانا مفتی ولی حسن، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر بزرگوں کا لگایا ہوا یہ پودا اب تن آور درخت کی صورت میں ملک بھر میں اپنے ثمرات و فیوض کو بکھیر رہا ہے اور مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

Read More »