انسدادِ سود کے لیے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ کمیشن کا مسودۂ قانون
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ ۲۵ مئی ۲٠٠۱ء (جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ) آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ سود کے حوالے سے بات چل رہی ہے جو کہ اب تقریباً آخری مرحلے میں ہے۔ گزشتہ بیس سال سے یہ عدالتی جنگ چل رہی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے فل بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ جناب سود قرآن و سنت کے خلاف ہے، پاکستان کے دستور کے خلاف ہے، اس لیے حکومت یکم جولائی ۲٠٠۱ء سے ملک میں غیر سودی مالیاتی نظام نافذ کرے۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایک کمیشن بنا، اسٹیٹ بینک کے سربراہ امتیاز عالم حنفی کی سربراہی میں، اس کمیشن میں صرف ایک عالم دین تھے مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ان کی عمر میں برکت عطا فرمائیں، انہوں نے اس معاملے میں اہلِ دین کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا۔ ایک سال کی طویل کشمکش کے بعد اس کمیشن نے مسودہ مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر دیا۔ یعنی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا کہ ایک کمیشن بناؤ جو مسودۂ قانون مرتب کرے، اور حکومت کو پابند کیا کہ یکم جولائی